اُڈپی 23 / نومبر (ایس او نیوز) اڈپی ضلع مسلم اوکوٹا کی جانب سے سنتے کٹّے کلیان پورا میں واقع ماونٹ روزری ملینیم ہال میں اڈپی نجار کے مقتولین کے لئے ایک تعزیتی اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا ۔
اس اجلاس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور انسانیت سوز قتل کی واردات کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ۔ اسی اجلاس میں ہزاروں افراد کی طرف سے کئی قراردادیں منظور کرکے ریاستی وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ قتل کی اس واردات میں شریک یا معاون بننے والے افراد کے تعلق سے بھی جانچ پڑتال کرنے، انہیں گرفتار کرنے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی اجلاس میں کیا گیا ۔
اجلاس میں منطور شدہ قراردادوں کے تحت ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس معاملے کی پیروی کرنے کے لئے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نامزد کرے ۔ فاسٹ ٹریک عدالت میں اس سماعت ہو، تا کہ ملزم کے لئے کٹھن سزا ملنا یقینی ہو جائے ۔ میڈیا والے متاثرہ خاندان کو ذہنی طور پر ہراساں اور پریشان کرنے والی افواہوں پر مبنی جھوٹی خبریں نشر کرنے سے باز آئیں اور اس کی روک تھام کے لئے حکومت کی طرف سے مناسب اقدام ہو ۔ آئندہ اس قسم کی خوفناک وارداتوں کو روکنے کے لئے ہر علاقے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوں، اس کی طرح کے وحشیانہ جرائم انجام دینے پر ابھارنے والے نفرت انگیز بیانات اور اپنے گھروں میں ہتھیار رکھنے کا مشورے دینے والے اشتعال انگیز خطابات پر فوری روک لگائی جائے اور ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔
اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اڈپی ضلع مسلم اوکوٹا کے صدر یاسین ملپے نے کہا کہ اڈپی ضلع پر مجھے فخر محسوس ہوتا ہے کہ اس واردات کو کسی نے بھی ہندو، مسلم ، عیسائی کسی بھی مذہب یا ذات پات کے چشمے سے نہیں دیکھا ۔ جان گنوانے افراد کو اپنے جیسا ہی انسان سمجھا ۔ انسانیت کا سر بلند کرنے والے ایسے جذبے کی جھلک جو ہمیں اڈپی ضلع میں دیکھنے کو ملی ہے، شائد کہیں اور نہیں ملے گی ۔
انہوں نے کہا کہ جس دن واردات ہوئی اس دن دیپاولی تہوار تھا مگر اُس علاقے کے لوگوں نے اس واردات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دیپاولی نہیں منائی ، پٹاخے نہیں پھوڑے ۔ رکشہ ڈرائیور شیام نے کسی بھی جھجھک کے بغیر ملزم کے تعلق سے پولیس کو سراغ فراہم کیے ۔ مہا بل تولار نے مقتولین کے آخری رسومات میں شرکت کرنے والوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری سنبھالی ۔ آج کے اس تعزیتی اجلاس کے لئے ماونٹ روزری چرچ والوں نے یہ ہال مفت میں فراہم کیا ۔ یہی اصل مذہب ہے ۔ کسی کو دکھ دینا مذہب نہیں بلکہ کسی کے دکھ میں شامل ہونا ہی مذہب ہے ۔
کلیان پور ماونٹ روزری چرچ کے پادری فادر راکی ڈیسوزا نے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں ہے ۔ یہ پورے سماج کا دکھ ہے ۔ ہمارے یہاں ایسی واردات ہوئی ہے جو نہیں ہونی چاہیے تھی ۔ لیکن مسلمانوں نے کسی بھی حالت میں اپنے آپے سے باہر نہیں ہوئے ۔ پوری طرح صبر و اطمینان کا مظاہرا کرتے ہوئے انہوں نے پورے سماج کے لئے مثال قائم کی ہے ۔
اس موقع پر سابق ایم ایل اے ونئے کمار سورکے، متاثرہ خاندان کے سربراہ نور محمد کے علاوہ ادیاور ناگیش کمار، ایم اے غفور، اشرف کوڈی بینگرے، مہا بل تولار، عینی شاہد آٹو رکشہ ڈرائیور شیام، ریٹائرڈ پروفیسر ہیلڈا، کشن ہیگڈے کولّے بیل، بال کرشنا شیٹی، سندر ماسٹر، ابوبکر نیجار، جناردھن تونسے، دیکر ہیرور، رمیش وغیرہ نے متاثرہ خاندان کے لئے تعزیتی کلمات کہے ۔ ڈاکٹر سنیتا شیٹی نے اس واردات کے حوالے سے لکھی گئی اپنی تعزیتی نظم پیش کی ۔
جلسے کا آغاز مولانا عادل کی قرآت کلام پاک سے ہوا ۔ مسلم اوکوٹا اڈپی تعلقہ کے صدر ایس ایم ارشاد نیجار نے جلسے کی صدارت کی ۔ شیخ صلاح الدین نے استقبالیہ کلمات کہے ۔ ٹی ایم ظفراللہ ہوڈے نے کلمات تشکر ادا کیے ۔ یاسین کوڈی بینگرے نے جلسے کی نظامت کی ۔